Wednesday, January 30, 2019

طالبان دہشت گردی کے القاب سے بری

امام الدین علیگ

قطر میں طالبان- امریکہ کے بیچ 6 دنوں تک چلے طویل مذاکرات کے بعد امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے اور گزشتہ چند دنوں سے یہ خبر نیشنل - انٹرنیشنل سبھی طرح کے ذرائع ابلاغ میں سرخیوں میں ہیں۔ 
اس معاہدے کے مسودے کے مطابق غیر ملکی افواج ایک مقررہ مدت کے اندر افغانستان سے نکل جائیں گی، طالبان افغانستان میں داعش یا القاعدہ جیسی تنظیموں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے، دونوں جنگی فریقوں کے بیچ قیدیوں کا تبادلہ ہو گا۔ امریکہ اور طالبان دونوں نے معاہدے کے مسودے میں شامل ان نکات کی تصدیق کی ہے۔ مسودے میں یہ بھی شامل ہے کہ طالبان کو بلیک لسٹ سے ہٹا لیا جائے گا جس سے ان پر لگی سے سفری پابندیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ 
امریکہ اور طالبان کے بیچ ہوئی اس تازہ پیش رفت کو بھلے ہی حتمی معاہدے کی شکل اختیار کرنے میں ابھی وقت لگے لیکن اس کے اثرات ابھی سے دکھائی دینے لگے ہیں۔ بھلے ہی طالبان کو ابھی بلیک لسٹ سے ہٹایا نہ گیا ہو اور یہ بات ابھی صرف مسودے کا حصہ ہو لیکن ایک آدھ استثنٰی کے ساتھ سبھی قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے طالبان کے ساتھ دہشت گرد، انتہا پسند، شدّت پسند جیسے الفاظ منسوب کرنا ابھی سے بند کر دیا ہے۔ جہاں بیشتر ذرائع نے طالبان کے ساتھ کوئی لاحقہ - سابقہ لگانے سے پرہیز کیا ہے تو وہیں کچھ چینلوں اور اخباروں نے اب اُنہیں دہشت گرد کے بجائے باغی، جنگجو یا لڑاکا لکھنا/کہنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا کو تو چھوڑ دیجئے، ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے بھی مجموعی طور پر اپنی رپورٹوں میں طالبان کو دہشت گردی کے القاب سے بری کر دیا ہے۔ گرچہ قطر میں ہوئی اس تازہ پیش رفت کے بعد حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ نے طالبان کے حوالے سے نہ تو خارجہ پالیسی کی وضاحت کی ہے اور نہ ہی کوئی بیان جاری کیا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل طالبان کے ساتھ ماسکو میں ہوئے مذاکرات میں ہندوستان نے غیر سرکاری طور پر حصہ لیا تھا۔ طالبان سے مذاکرات کی خبر پر اپوزیشن کے اعتراض کرنے کے بعد وزارتِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے اس وقت انتہائی مبھم بیان دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ "ہندوستان افغانستان میں امن اور صلح کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔" مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ وضاحت بھی کی تھی کہ "ہم نے کب کہا کہ طالبان کے ساتھ بات ہوگی؟" مطلب بیک وقت اقرار بھی اور انکار بھی۔ حال ہی میں ہندوستان کے فوجی سربراہ جنرل ویپن روات نے بھی ایک بیان میں مرکزی حکومت پر طالبان سے مذاکرات کرنے پر زور دیا تھا۔ ان بیانات سے لگتا ہے حکومتِ ہند طالبان اور افغانستان کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی پر تذبذب اور کشمکش کا شکار ہے۔ فی الوقت حکومتِ ہند نہ تو کھل کر طالبان سے بات۔چیت کر رہی ہے اور نہ ہی سابقہ پالیسی کی طرح دہشت گرد قرار دیتے ہوئے طالبان کو یکسر مسترد کر رہی ہے۔
ایک بات تو صاف ہے افغانستان کے دیگر پڑوسی ملکوں کی طرح طالبان سے مذاکرات کرنا یا یوں کہیں کہ طالبان کو منظوری دینا ہندوستان کی بھی مجبوری ہے اور ماسکو مذاکرات میں حصہ لیکر ہندوستان اپنی منشا بھی واضح کر چکا ہے مگر چونکہ ملک میں پارلیمانی انتخابات قریب ہیں اس لیے ایسا لگتا ہے کہ برسرِ اقتدار پارٹی طالبان سے مذاکرات کرکے انتخابی خسارے سے حتٰی الامکان بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان نے افغانستان میں کافی سرمایہ کاری کی ہے۔ ایسے میں بھلے ہی طالبان سے ہندوستان کے تعلقات کبھی ٹھیک نہ رہے ہوں، لیکن اُن سے فوری طور پر اور براہ راست مذاکرات شروع کرنا ملک کے دیرینہ مفادات کے لیے ضروری ہے۔ مذاکرات میں جتنی تاخیر ہو گی افغانستان میں ہندوستان کے مفادات کو اتنا ہی نقصان پہنچے گا، کیونکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ طالبان کی پوزیشن مضبوط سے مضبوط تر ہوگی اور اسی کے ساتھ اس تساہلی کی وجہ سے افغانستان سے بھی ہندوستان کا پتہ صاف ہو جائےگا۔

Tuesday, July 31, 2018

आसाम के लाखों मुसलमानों को नरसंहार संकट का सामना!

इमामुद्दीन अलीग


असम में 40 लाख लोगों को नागरिकता के अधिकार से वंचित कर दिया गया है... इनका नाम न तो NRC की पहली लिस्ट में था और ना ही दूसरी और फाइनल लिस्ट में है... मोदी सरकार का कहना है कि इन लोगों को अपनी नागरिकता साबित करने के लिए सितंबर तक, एक और मौक़ा दिया जाएगा, लेकिन सवाल ये उठता है कि ये 40 लाख लोग किसके सामने अपनी नागरिकता साबित करेंगे? क्या उन्हीं अधिकारियों के सामने जिन्होंने पहली और दूसरी लिस्ट में इन्हें देश का नागरिक मानने से इनकार कर दिया है? जब दो-दो बार ये अधिकारी इनकार कर चुके हैं तो तीसरी बार ये कैसे मान लेंगे? ख़ास बात यह है कि इन्हें बंगाली बोलने वाला मुसलमान बता कर बांग्लादेशी साबित करने की कोशिश की जा रही है जबकि हक़ीक़त यह है कि भाषा का कोई क्षेत्र नहीं होता... अगर आप बंगला बोलने की वजह से इन्हें बंगलादेशी कह रहे हैं तो फिर नेपाल के अंदर सरहदी इलाक़ों में हिंदी बोलने वाले लाखों नेपालियों को आप क्या कहेंगे? ऐसी बहुत सी मिसालें आपको देखने को मिल जाएंगी।
दरअसल, यह पूरा मामला सत्ता पर हर हाल में क़ब्ज़ा बरक़रार रखने का है। चूँकि आबादी के लिहाज़ से कश्मीर के बाद आसाम में मुसलमान सबसे ज़्यादा हैं... इसी बुनियाद पर वहां के मुसलमान अपनी राजनीतिक पार्टी (AIUDF) खड़ी करके मुख्य विपक्ष की भूमिका में आ गए थे... ऐसे में कांग्रेसियों और भाजपाइयों द्वारा असम की सत्ता पर कब्ज़ा करने की राह में यह मुसलमान कबाब में हड्डी बनने लगे थे... जिसके लिए ज़रूरी हो गया था कि यहाँ के मुसलमानों का इलेक्टोरल पॉवर कमज़ोर किया जाए। जिसके लिए अब इन्हें भारतीय नागरिकता से ही वंचित कर दिया गया है। इतना तो तय हो गया है कि ये 40 लाख मुसलमान अब ना तो वोट कर सकेंगे, ना इन्हें किसी सरकारी योजना का लाभ मिलेगा और न ही अपनी संपत्ति पर इनका कोई अधिकार रहेगा... यानी अब भाजपाइयों और कांग्रेसियों के लिए असम में कुर्सी का रास्ता साफ हो गया है।
सबसे अहम सवाल जो सभी के दिमाग़ में उठ रहा है वो ये है कि, अब इन 40 लाख लोगों के साथ सरकार क्या करेगी या इन लोगों का भविष्य क्या होगा? क्योंकि बांग्लादेश की सरकार तो इन्हें कभी भी और किसी भी सूरत में अपनाने से रही। जवाब बहुत आसान है। रोहिंग्या और फिलस्तीनी मुसलमानों की तरह इन्हें भी शरणार्थी कैम्पों बल्कि डिटेंशन कैंपों में भर दिया जाएगा। मिसाल के तौर पर 1985 से विशेष अदालतों ने जिन 85,000 से ज़्यादा लोगों को विदेशी घोषित किया था, वो पहले से ही हिरासती कैंपों में सड़ रहे हैं। और अब सरकार आवश्यकतानुसार नए डिटेंशन कैंप बनाने की बात कह रही है।
ये बात सभी को मालूम होनी चाहिए कि एक बड़े जनसमूह को डिटेंशन कैंप में रखने का क्या मतलब होता है... ये दरअसल gradually genocide यानि धीरे-धीरे नरसंहार करने का एक तरीका है। क्योंकि इन कैम्पों में महिलाओं और बच्चों को मर्दों से अलग रखा जाता है जिसका साफ़ मतलब है कि इनकी एक नस्ल खत्म होने के बाद कोई दूसरी नस्ल नहीं होगी। अलबत्ता, असम के मुसलमानों और रोहिंग्या व फिलस्तीनी मुसलमानों में थोड़ा सा फ़र्क़ है। वो फ़र्क़ यह है कि रोहिंग्या व फिलस्तीनी मुसलमानों को अन्य मुस्लिम देशों का बराए नाम समर्थन मिल गया था, जबकि असम के मुसलमानों को वो भी मिलने की संभावना दूर-दूर तक नज़र नहीं आ रही है। और तो और, देश के साढ़े उन्नीस करोड़ मुसलमान भी धीरे-धीरे होने वाले इस नरसंहार का सिर्फ तमाशा देख रहे हैं।

ہندوستان کے ہندو راشٹربننے کا مطلب؟


امام الدین علیگ

ہندوستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں ملک کے عوام و خواص، سیکولر غیر سیکولر اور خاص طور سے اقلیتی طبقے پر خوف و خدشات کے بادل چھائے ہوئے ہیں ۔ لوگوں کے دل و دماغ میں یہ خوف دن بدن جڑ پکڑتا جا رہا ہے کہ جمہوری ہندوستان جلد ہی ایک ہندو راشٹرمیں تبدیل ہوجائے گا۔ حالانکہ یہ خدشہ کوئی نیا نہیں ہے لیکن گزشتہ چند برسوں میں ہندو راشٹر کے علمبرداروں کے زور پکڑنے ، ملکی سیاست پر ان کی گرفت مضبوط ہونے ، مسلم مخالف رجحانات کے پھیلاؤ اور آئے دن پیش آنے والے مسلم کش واقعات اور قصورواروں کی سرکاری پشت پناہی سے اس خدشے کو بہت تقویت ملی ہے۔
درحقیقت ہندوستان کی آزادی اور تقسیم ِوطن کے سانحے کے بعد سے ہی ملک کے مسلم طبقے کی طرف سے یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ ہندوستان اب غیر اعلانیہ طور پر ہندو راشٹربن چکا ہے۔خاص بات یہ ہے کہ خود ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم اور ہندو۔مسلم اتحاد کے بڑے علمبردار مانے جانے والے مولانا ابو الکلام آزاد نے بھی اعلانیہ طور پر کچھ اسی طرح کی بات کہی تھی۔ 1947میں دہلی کی جامع مسجد سے کئے گئے اپنے پُرجوش اور حکیمانہ خطاب میں کہا تھا ’’ہندو اکثریت کے علاقوں میں بسنے والے یہ مسلمان ایک دن اچانک صبح آنکھ کھلتے ہی اپنے وطن میں پردیسی اور اجنبی پائے گئے۔تعلیمی اور معاشی اعتبار سے پسماندہ ہوگئے اور ایک ایسی حکومت کے رحم و کرم پر ہوگئے جو خالص’ ہندو راجــــ‘ بن گئی ہے۔‘‘
’’ہندو راشٹر‘‘ کا ایشو ویسے تو ہمیشہ موضوع بحث بنا رہتا ہے۔ چند دنوں قبل کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر ششی تھرور کے بیان نے اس موضوع کو مزید گرما دیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر 2019کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی جیتی تو ملک کا آئین خطرے میں پڑ جائے گااور ہندوستان ’ہندو پاکستان‘ بن جائے گا۔ ششی تھرور کے اس بیان میں ’’اگر بی جے پی جیتی تو‘‘ کی شرط سے ایک بات تو بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ یہ مکمل طور پر ایک سیاسی بیان تھا جو ملک کے اقلیتوں کو ڈرا کر انتخابی فائدہ اٹھانے کے مقصد سے دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ہمیں ہندو راشٹر کے مطلب اور اس کے دائرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس سے پیدا ہونے والے خوف کا کوئی حل نکالا جا سکے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سماج اور سیاست پر فرقہ پرستوں کی گرفت اتنی مضبوط ہوگئی ہے کہ ہر خاص و عام کے اندر یہ احساس گھر کرتا جا رہا ہے کہ ہندوستان ’’ہندو راج‘‘سے ’’ہندو راشٹر‘‘ بننے کی راہ پر بہت تیزی سے گامزن ہے۔ ’’ہندو راج‘‘ سے مراد ہندوؤں کے تسلط اور غلبے والی حکومت ہے جیسا کہ آزادی کے بعد سے اب تک عملی طور پر ہندوستان میں ہندوؤں کا ہی راج اورہندوؤں کی ہی حکومت رہی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ملک کا آئین جمہوری ہے۔ غالباً مولانا ابو الکلام آزاد کے خطاب میں مذکورہ ’’ ہندو راج‘‘سے ہندوؤں کے غلبے والی حکومت ہی کی طرف اشارہ رہا ہوگا۔ جبکہ ہندو راشٹر کا مطلب ہندو رولنگ سسٹم یا پھر ہندو مذہب کی بنیاد پر بنے آئین سے چلنے والی حکومت ہوتا ہے۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہندو مذہب کے ایسے کون سے اصول و قوانین ہیں جنھیں ہندوتووادی طاقتیں ممکنہ طور پرجمہوری ہندوستان کو ہندو راشٹر بناتے وقت آئین سازی کے لیے بنیاد بنا سکتی ہیں۔ اس کے لئے ’’ہندو کوڈ‘‘ مانی جانے والی ہندو مذہب کی کتاب ’منواسمرتی‘ میں بیان کئے گئے قوانین و ضوابط پر نظر ڈالنا ناگزیر ہے۔ منواسمرتی کے مطابق ایگزیکٹو طاقت کا سرچشمہ بادشاہ ہے۔ اس قانون کی عملی مثال کے طورپر ماضی قریب میں ’’ہندو راشٹر‘‘ رہے نیپال کو پیش کیا جا سکتا ہے جہاں چھتریہ شاہی خاندان کی حکومت تھی اور سبھی اختیارات بادشاہ کے ہاتھ میں تھے۔ اس کے اور گئو رکشا کے سخت قانون کے علاوہ منو اسمرتی کا کوئی اور قانون نیپال میں نافذ نہیں تھا۔ بہرحال نیپال میں ہندوبادشاہت ختم ہوگئی اور اسی کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی بادشاہت کے دور کا واپس آنا کہیں سے بھی قرین قیاس نہیں لگتا۔ جہاں تک ہندوؤں کے راج اور حکومت کی بات ہے تو یہ آزادی کے بعد سے ہی روبہ عمل ہے۔ وہیں منواسمرتی کا دوسرا سب سے اہم اور سب سے متنازع اصول ’ورن ووستھا‘ یعنی ذات پات کا نظام ہے جس میں سبھی اختیارات و مراعات برہمنوں کیلئے مختص کردیے گئے ہیں۔ جبکہ شودروں(دلتوں) کو بنیادی حقوق سے یکسر محروم کردیا گیا ہے ۔
ہندوتو کے علمبرداروں نے منواسمرتی کے اس نظام ’’ورن ووستھا‘‘ کو نافذ کرنے کی بات کبھی نہیں کی لیکن سیاسی نفع و نقصان کے پیش نظر کبھی اس کی مخالفت بھی نہیں کی۔ مگر ملک کے موجودہ سیاسی تناظر میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ہندوتو وادی طاقتیں ’ ورن ووستھا‘ نافذ کرنے سے رہیں۔ کیونکہ اس سے ہندو سماج کا اکثریتی طبقہ ان کے خلاف محاذ آرائی پر اتر آئے گا۔ البتہ ڈھکے چھپے طریقے سے ہندوؤں کے اعلیٰ طبقے کو آگے رکھنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ ان طاقتوں کی موجودہ روش سے ظاہر ہو رہا ہے۔ اسی طرح منواسمرتی کے دلت مخالفت دیگر قوانین کا بھی نفاذ تقریباً ناممکن ہے جن میں وید سننے پر دلتوں کے کان میں سیسہ پگھلا کر ڈالنا، مندر میں داخل ہونے پرکھولتا تیل ڈالنا وغیرہ۔ پھر سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ ’’ہندو راشٹر‘‘ سے ہندوتووادی تنظیموں کی ہندو راشٹر سے کیا مراد ہے۔ کیوں کہ ہندو مذہب میں اسلام کےمکمل نظام حیات یا پھر نظام حکومت کی طرح تو کوئی نظام موجود ہے نہیں۔ اس کا جواب ہمیں ’’ہندو راشٹر‘‘ کی بات کرنے والی آرایس ایس اور دیگر ہندوتووادی تنظیموں کے طرز عمل اورطریقہ کار پر نظر ڈالنے سے ملتا ہے۔
آر ایس ایس کے طریقہ کار میں دو باتیں خاص طور سے نمایاں ہیں (1) ہندو ؤں کے مفاد اور ان کے غلبے کی وکالت(2)مسلم دشمنی۔ موجودہ وقت میں ہندوتووادی طاقتوں کی تمام تر سرگرمیاں انہیں دو پوائنٹس کے اردگرد گھومتی ہیں۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں مزید کامیابی حاصل کرنے کے بعد یہ طاقتیں ہندوستان کے جمہوری آئین میں ترمیم کرکے اس سے سیکولر اور جمہوری نقوش کو مٹا دیں اور اس میں’’ہندو راشٹر‘‘ کے باب کا اضافہ کردیں۔
اس بات کو ہم اسرائیل میں ہوئی تازہ پیش رفت سے بھی سمجھ سکتے ہیں جہاں’یہودیوں کی قومی ریاست‘ نام کا بل منظور کیا گیا۔ اس قانون کے مطابق اسرائیل یہودیوں کی تاریخی سرزمین ہے اور اس کی قومی خود ارادیت کا خصوصی حق صرف یہودیوں کے لیے مخصوص ہے۔ اس قانون سے پہلے اسرائیل آئینی طور پر ایک سیکولر جمہوری ملک تھا جس میں سبھی شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اسرائیل کی زمینی حقیقت اس بات کی گواہ ہے کہ یہ متنازع ریاست اپنے قیام کے بعد سے کبھی بھی جمہوری سیکولر ریاست نہیں رہی بلکہ شروع سے ہی اسرائیلی ریاست ہی رہی ہے۔ اور اس زمینی حقیقت کو اب کاغذی طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔
ممکن ہے کہ اسرائیل کی طرز پر ہندوتوا کے علمبردار بھی مستقبل میں مزید کامیابی ملنے پر ’ہندو راشٹر‘ یا ’ہندوؤں کی قومی ریاست‘ نام کا کوئی بل منظور کرلیں اور ہندوستان کو ہندوؤں کی فطری اور پیدائشی سرزمین قرار دیتے ہوئے قومی خود ارادیت کا حق صرف ہندوؤں کے لئے مختص کردیں۔ اور پھر اس کی مدد سے ملک کے اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیں۔ جیسا کہ ابھی حال ہی میں آسام کے شہریت کے معاملے میں سرکار کی جانب سے ہندوؤں کو ہندوستان کا فطری اور پیدائشی شہری ہونے کا حق دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی اور آسام میں بی جے پی حکومت کے ریاستی وزیر نے بھی اس معاملے پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ بنگالی بولنے والے ہندو ہندوستان کے فطری شہری ہیں۔ یعنی شہریت صرف ریاست کے مسلمانوں کو ثابت کرنی ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ آسام کی قبائلی آبادی نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔
تاحال ہندوتوا وادی طاقتیں ہندوستان کو آئین کی بنیاد پر ’ہندو راشٹر‘ نہیں بنا سکیں ہیں۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اس سمت میں انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔ بلکہ یوں کہاجائے کہ آزادی کے بعد اب تک پیش آنے والے متعدد واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ ہندوتوا وادی طاقتیں اپنے منصوبوں میں بڑی حد تک کامیاب ہیں ۔1947میں آزادی کے فوراً بعد سرکار کی جانب سے سرکاری خرچ پر سومناتھ مندر کی تعمیر کرانا، 1992میں بابری مسجد کا گرایا جانا، آزادی کے بعد سے اب تک رونما ہوئے ہزاروں مسلم کش فسادات میں قصورواروں کے خلاف کارروائی نہ ہونا، ملک بھر میں موب لنچنگ کے واقعات میں مسلمانوں کا مارا جانا، 2013 نریندر مودی کے اسٹیج پر فسادات کے ملزم سنگیت سوم اور سریش رانا کی عزت افزائی، مرکزی وزیر مہیش شرما کی جانب سے اخلاق کے قاتلوں کی عزت افزائی، حال ہی میں مرکزی وزیر جینت سنہا کی جانب سے موب لنچنگ کے قصورواروں کی حوصلہ افزائی اور مرکزی وزیر گری راج کا فسادات کے ملزمین سے ملنا وغیرہ جیسے متعدد واقعات ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں ہندوتو وادی طاقتیں اپنے منصوبے کے مطابق ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے اور ماحول سازی کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔
انتخابی سیاست میں مسلمانوں کی حیثیت کو بے اثر بنانا، مسلمانوں کے قاتلوں کو سرکاری پشت پناہی ملنا، مسلمانوں کے ساتھ تعصب کو سماجی رجحان کا حصہ بنا دینا، حکومت، انتظامیہ، عدلیہ غرضیکہ ہر ایک شعبےسے مسلمانوں کی نمائندگی کو ختم کیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ آر ایس ایس اپنی کھینچی لکیروں پر ہندوستان کو چلانے میں کامیاب ہے۔ بلکہ اسے کامیابی نہ کہہ کر یوں کہا جائے کہ ہندوستان ایک خطرناک انجام کی طرف بڑھ رہا ہے اور اگر وطن عزیز اس سمت میں اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو اس ملک کی تقدیر میں خانہ جنگی جیسی تباہی اور خوں ریزی کے خدشات نمایاں نظر طور پر نظر آ رہے ہیں۔ بہر حال زمینی حقیقت کے اختلاف کے ساتھ ملک کا آئین اب تک اپنے جمہوری اور سیکولر اقدار پر قائم ہے۔ اس آئین کا تحفظ اور ملک کی سلامتی اور امن کی بحالی کی ذمہ داری ملک کے اکثریتی طبقے پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ اقلیتی طبقے نے طویل مدت تک صبر اور قربانی کا مظاہرہ کرکے بڑی حد تک اپنا کردار ادا کردیا ہے۔ اور اب حالات کو سنبھالنے کا وقت اقلیتوں کے ہاتھ سے پھسل چکا ہے۔ اقلیتوں کے لئے اب ایک ہی کام بچا ہے، وہ ہے استقامت کے ساتھ حالات کا سامنا کرنا۔ ملک کے مستقبل کا منظرنامہ بربادی یا شادابی کچھ بھی ہو اکثریتی طبقے کے کردار پر ہی منحصر ہے۔ اب اگر اکثریتی طبقے نے اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کیا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کریگی۔

Saturday, July 14, 2018

क्या भारत बन चुका है अघोषित हिन्दू राष्ट्र ?

इमामुद्दीन अलीग

भारत के हिन्दू राष्ट्र होने का दावा कोई नया नहीं है... स्वतंत्रता के तुरंत बाद से ही देश के मुस्लिम समुदाय की तरफ से यह बात कही जाती रही है कि भारत अब हिन्दू राष्ट्र बन चुका है... ख़ास बात यह है कि खुद भारत के सर्वप्रथम शिक्षा मंत्री और हिन्दू-मुस्लिम एकता के अलम-बरदार स्वर्गीय मौलाना अबुल कलाम आज़ाद साहब ने सब से पहले खुले-आम कुछ इसी तरह की बात कही थी... 1947 में दिल्ली की जामा मस्जिद से अपने संबोधन में कहा था " अब हिंदुस्तान में बसने वाले मुसलमान एक ऐसी हुकूमत के रहमो करम पर हो गए हैं जो खालिस हिन्दू राज बन गई है।"
"हिन्दू राष्ट्र" का मुद्दा वैसे तो हमेशा चर्चा का विषय बना रहता है लेकिन अभी हाल ही में कांग्रेस के सीनियर लीडर शशि थरूर के बयान के बाद से यह मुद्दा बहस के केंद्र में आ गया है। जिसके बाद से बहुत से लोग भारत को अघोषित हिन्दू राष्ट्र साबित करने पर तुल गए हैं। हालाँकि शशि थरूर ने यह कहा है कि अगर 2019 के लोकसभा चुनाव में बीजेपी जीती तो देश का संविधान खतरे में पड़ जाएगा और भारत हिन्दू पाकिस्तान बन जाएगा।
शशि थरूर के इस बयान में "2019 में बीजेपी जीती तो" के उल्लेख से एक बात तो स्पष्ट हो जाती है कि यह पूर्ण रूप से एक राजनीतिक बयान है जो अल्पसंख्यकों को डरा कर चुनावी लाभ उठाने के उद्देश्य से दिया गया है। लेकिन साथ ही यह भी सच है कि आज का भारत "हिन्दू राज" से "हिन्दू राष्ट्र" बनने की ओर अग्रसर है। "हिंदू राज" का मतलब हिंदुओं के प्रभुत्व वाली हुकूमत होता है जैसा कि स्वतंत्रा के बाद से व्यावहारिक रूप से भारत में हिंदुओं का ही राज रहा है... मगर वहीँ हमारा संविधान लोकतान्त्रिक है.. यही बात मौलाना अबुल कलाम आज़ाद ने अपने संबोधन में कही थी। जबकि "हिन्दू राष्ट्र" का मतलब हिन्दू रूलिंग सिस्टम या हिन्दू संविधान के तहत चलने वाली सरकार होता है।
आरएसएस और अन्य हिंदुत्ववादी संगठन लगातार प्रयास करने के बावजूद आजतक भारत को हिन्दू राष्ट्र नहीं बना सके। लेकिन ऐसा भी नहीं है कि इस दिशा में उन्हें कोई कामयाबी नहीं मिली है... बल्कि यूँ कहा जाए कि स्वतंत्रता के बाद से अबतक घटने वाली अनगिनत घटनाएं इस बात का सबूत हैं कि भारत बहुत तेज़ी से हिन्दू राज से हिन्दू राष्ट्र बनने की ओर अग्रसर है।
_1947 में आज़ादी के तुरंत बाद भारत सरकार द्वारा सरकारी खर्चे पर सोमनाथ मंदिर का बनना, फिर 1995 में तत्कालीन राष्ट्रपति शंकर दयाल शर्मा द्वारा उसका लोकार्पण करना।
_30 जनवरी 1948 को महात्मा गांधी का क़त्ल किया जाना।(हालांकि इसमें क़ातिलों को सज़ा देकर न्याय किया गया, वरना गांधी जी मुसलमान होते तो उन्हें भी न्याय नहीं मिलता)
_6 दिसंबर 1992 को बाबरी मस्जिद को गिराया जाना।
_ स्वतंत्रता के बाद से अबतक हुए लाखों दंगों के कुसूरवारों और ज़िम्मेदारों के खिलाफ कार्रवाई न होना, बल्कि सरकार और प्रशासन द्वारा दंगाइयों को खुली छूट देना।
_देश भर में हुई मोब लिंचिंग की घटनाओं में भीड़ द्वारा मुसलमानों का क़त्ल किया जाना।
_2013 में नरेंद्र मोदी के मंच पर दंगा आरोपी संगीत सोम और सुरेश राणा को सम्मानित किया जाना।
_हाल ही में केंद्रीय मंत्री जयंत सिन्हा और गिरिराज द्वारा दंगा और लिंचिंग के सज़ा याफ्ता मुजरिमों और आरोपियों को सम्मानित किया जाना आदि।
ऐसी कई घटनाएं हैं जो यह सिद्ध करती हैं कि भारत हिन्दू राष्ट्र बनने की ओर अग्रसर है लेकिन जबतक इस देश का संविधान अपने लोकतान्त्रिक मूल्यों पर कायम है..तबतक हिंदुस्तान को हिन्दू राष्ट्र नहीं कहा जा सकता क्योंकि लोकतंत्र के तीनों स्तंभ न्यायपालिका , कार्यपालिका और विधायिका संविधान के अनुसार ही चलते हैं। यह अलग बात है कि हिंदुत्ववादी ताक़तों ने इतना ज़हर फैला दिया है कि समाज और सरकार का कोई भी हिस्सा इस प्रदूषित सोच से सुरक्षित नहीं रहा।

Wednesday, April 18, 2018

कठुआ और उन्नाव गैंगरेप मामले में सीबीआई जांच और नार्को टेस्ट की ज़रुरत क्यों?

इमामुद्दीन अलीग 

आजकल ये नया ट्रेंड चल पड़ा है कि आरोपी खुद ही सीबीआई जाँच और नार्को टेस्ट की मांग कर रहे है... संघी और बिकाऊ मीडिया संस्थान इस मांग का निस्पक्ष विश्लेषण करने के बजाए, इसे कठुआ और उन्नाव केस के आरोपियों के पक्ष में माहौल बनाने के लिए इस्तेमाल कर रहे हैं।
पहली बात तो ये कि जो भी आरोपी सीबीआई जाँच और नार्को टेस्ट की मांग कर रहे हैं उनका संबंध सत्ता पक्ष से है या फिर उन्हें सत्ताधारी पार्टी का समर्थन प्राप्त है और सत्ता पक्ष द्वारा सीबीआई का बुरी तरह मिसयूज़ किया जाना कोई ढकी छुपी बात नहीं हैं... इसलिए इन आरोपियों को लगता होगा कि सीबीआई और नार्को टेस्ट को मैनेज करके उन्हें बचा लिया जाएगा... 
दूसरा अहम पॉइंट जो मीडिया को उठाना चाहिए था वो ये कि क्या वास्तव में इन केसों में सीबीआई जांच और नार्को टेस्ट की ज़रुरत है...? आखिर इस तरह की जाँच और टेस्ट की जरूरत कब और क्यों पड़ती है? सीबीआई जांच की ज़रुरत तब पड़ती है जब लोकल एडमिनिस्ट्रेशन आरोपियों को बचाने या केस को कमज़ोर करने की कोशिश कर रहा हो या फिर वो केस उससे हैंडल न हो रहा हो जैसे कि उन्नाव के केस में देखने को मिला... जबकि कठुआ रेप केस में ऐसा नहीं है... रही बात नार्को टेस्ट की तो दोनों ही केस के आरोपी इसकी मांग कर रहे हैं... ख़ास बात ये है कि नार्को टेस्ट की ज़रुरत तब पड़ती है जब सबूतों और गवाहों की कमी हो और ये बात आरोपी नहीं बल्कि अदालत और एजेंसियां तय करती हैं, कि नार्को टेस्ट की ज़रुरत है या नहीं... जबकि कठुआ मामले में डीएनए सैम्पल समेत आरोपियों के खिलाफ इतने सबूत हैं कि वहां सीबीआई जांच और नार्को टेस्ट की कोई ज़रुरत ही नहीं है... यकीन न हो तो एक बार चार्जशीट पढ़ कर देख लें ।

Sunday, February 11, 2018

सलमान नदवी/श्री श्री के प्रस्तावित समझौते का क्या है क़ानूनी महत्व

इमामुद्दीन अलीग

अयोध्या विवाद में असल क़ानूनी फरीक़ सुन्नी वक़्फ़ बोर्ड, निर्मोही अखाडा और राम लला विराजमान हैं ... और विवाद के समझौते के तअल्लुक़ से ये बात हर किसी को समझ लेनी चाहिए कि सुप्रीम कोर्ट ने अपने पूर्व आदेश में समझौता करने का जो सुझाव दिया था वो इस मामले के तीनों क़ानूनी फरीक़ों के लिए था न कि किसी चौथे के लिए....और जब मामले के तीनों क़ानूनी फरीक अदालत से बहर समझौते के लिए तैयार नहीं हुए (और न आज हैं) तो अदालत ने मामले का क़ानूनी प्रोसीज़र शुरू कर दिया... और अब तीनों क़ानूनी फरीक़ समझौते की बात भूल कर अदालत में अपना अपना दावा मज़बूत करने में जुटे हैं... ऐसे में इस बीच में मौलाना सलमान और श्री श्री कौन होते हैं इस मामले में समझौता करने वाले... और क्या इनके इस समझौते की कोई कानूनी अहमियत होगी? बिलकुल नहीं... अदालत की नज़र में इनके समझौते का रत्ती भर भी महत्व नहीं होगा... फिर श्री श्री और सलमान नदवी का ये समझौते का ड्रामा किस लिए है? कहीं ऐसा तो नहीं कि हर चुनावी सीज़न में किसी न किसी पार्टी के लिए अपील करने वाले मौलाना सलमान नदवी इस बार बीजेपी के लिये बैटिंग कर रहे हों? ... श्री श्री के बारे में तो बड़ी हद तक ये कन्फर्म है कि वो 2019 के चुनाव के पेशेनज़र बीजेपी के लिए ज़मीन तय्यार कर रहे हैं और ये बात दबे लहजे में ही सही अपोज़ीशन पार्टियां भी मान रही हैं... इतना तो कन्फर्म है कि सलमान नदवी को ये बात मालूम होगी कि क़ानूनी फरीक़ों की रज़ामंदी के बग़ैर उनके प्रस्तावित विवादित समझौते की कोई क़ानूनी अहमियत नहीं होगी... तो फिर कहीं मौलाना का ये सारा खेल 2019 में बीजेपी को प्रचंड बहुमत दिलाने के लिए तो नहीं? कुछ तो है जिसकी पर्दादारी है।

Tuesday, December 26, 2017

बाबरी मस्जिद चाहिए या मुस्लिम पर्सनल ला?

तीन तलाक़ पर विवादित बिल का मक़सद ब्लैक मेलिंग तो नहीं!


इमामुद्दीन अलीग


तीन तलाक़ पर प्रस्तावित बेतुकी और अन्यायपूर्ण बिल पर बीजेपी की हटधर्मी का मतलब समझ रहे हैं आप ? ज़ाहिरी तौर पर तो ऐसा लगता है कि इस बिल का मकसद मुस्लिम पर्सनल लॉ को टारगेट करना है ... मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड भी ज़ाहिरी तौर पर यही कह रहा है लेकिन मुझे ऐसा लगता है कि इस बिल का मक़सद मुस्लिम पर्सनल लॉ को टारगेट करना नहीं बल्कि इसकी आड़ में मुस्लिम पर्सनल बोर्ड को ब्लैक मेल करना है.... आगे चल कर बीजेपी और आरएसएस मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड के सामने ये दो ऑप्शन रख सकते है कि या तो मुस्लिम पर्सनल बचा लो या फिर बाबरी मस्जिद मामले में मुक़द्दमा लड़ लो यानि अगर अपना पर्सनल लॉ बरक़रार रखना है तो विवादित ज़मीन पर राम मंदिर के पक्ष में सझौता करके उसे हमें दे दो वरना पर्सनल लॉ से हाथ धो बैठोगे... इस बात का शक इसलिए हो रहा है बाज़ रिपोर्ट्स के मुताबिक इससे पहले 1985 में राजीव गांधी की सरकर बहुसंख्यकों का धुर्वीकरण करने के लिए सायरा बानो केस में बोर्ड को ब्लैकमेल कर चुकी है और बाबरी मस्जिद का ताला खुलवा कर विवादित स्थल पर मूर्तिपूजन की इजाज़त दे चुकी है... बीजेपी कांग्रेस की नक़ल करने में माहिर तो है ही... शक की दूसरी वजह यह है कि तीन तलाक़ पर सुप्रीम कोर्ट के फैसले के बाद जो मोदी हुकूमत अदालत के निर्देश के बावजूद कह रही थी कि वो तीन तलाक़ पर कोई क़ानून नहीं बनाएगी तो फिर आज उसे ऐसी क्या ज़रुरत आन पड़ी कि वो इस विवादित बिल को पास कराने पर अड़ गई है ? कुछ तो है जिसकी पर्दादारी है! मुमकिन है कि मुस्लिम पर्सनल ला बोर्ड को बीजेपी की इस छुपी मंशा के बारे में पता हो या फिर ये भी हो सकता है कि बीजेपी ने अभी तक अपना पत्ता न खोला हो।